حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی توانائیوں، صلاحیتوں اور فکری استعداد کو حصول علم، عبادت الٰہی، اعلیٰ اخلاق اور خدمت انسانیت کے لیے بروئے کار لائیں۔ انہوں نے جوانی کو انسانی زندگی کا ایک نہایت قیمتی اور فیصلہ کن مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دور کا درست استعمال انسان کے کردار، روحانی ارتقا اور دنیا و آخرت کی کامیابی کی بنیاد بنتا ہے۔

مرکزی امام باڑہ بڈگام میں خطبۂ جمعہ کے دوران آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے جوانی کی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اہمیت و افادیت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جوانی انسان کی زندگی کا وہ دور ہے جس میں جسمانی قوت، فکری صلاحیت، عزم و حوصلے اور عملی استعداد کا بھرپور مظاہرہ ہوتا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ ان صلاحیتوں کو صحیح سمت میں استعمال کرنا ضروری ہے، کیونکہ مناسب رہنمائی سے محرومی نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کو نوجوانوں کی صلاحیتوں سے مستفید ہونے سے محروم کر سکتی ہے۔

رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ؐ اور اہل بیتؑ کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جوانی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری، عبادت، حصول علم اور نیک اعمال کے لیے وقف کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق وقت ایک قیمتی امانت ہے اور نوجوانوں کو اس دور سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی دینی و اخلاقی تربیت، اصلاح نفس اور کردار سازی پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے جوانی میں توبہ و استغفار کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس عمر میں گناہوں سے اجتناب اور اللہ تعالیٰ کی جانب رجوع انسان کی شخصیت کو سنوارنے اور باطن کی اصلاح میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے امام جعفر صادقؑ سے منقول روایات کا حوالہ دیتے ہوئے قرآن مجید کی تلاوت اور اس کی تعلیمات سے عملی وابستگی کی اہمیت بیان کی اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ قرآن کو اپنی زندگی اور کردار کا حصہ بنائیں۔

روز قیامت جواب دہی کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ؐ سے منقول ایک روایت کا حوالہ دیا، جس کے مطابق انسان سے اس کی عمر، جوانی، مال کے حصول و مصرف اور اہل بیتؑ سے محبت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر فرد کو سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے کہ وہ اپنی زندگی، وقت اور وسائل کن مقاصد کے لیے صرف کر رہا ہے، کیونکہ دنیاوی زندگی دراصل آخرت کی تیاری کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
نوجوانوں کی فکری، جسمانی اور عملی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا کہ جوانی قوت فکر، بلند حوصلے، شجاعت اور عزم و استقلال کا دور ہے۔ تاہم، ان خصوصیات کا مثبت اظہار عقل، حکمت اور احساس ذمہ داری کے ساتھ ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حقیقی شجاعت کا مطلب محض جذباتی ردعمل یا بے سوچے سمجھے اقدامات نہیں، بلکہ حق و انصاف کا ساتھ دینا، ظلم کے خلاف ثابت قدم رہنا اور مظلوموں کی حمایت کرنا ہے۔

خطبے کے دوران انہوں نے سورۂ لقمان میں حضرت لقمانؑ کی اپنے فرزند کو دی گئی نصیحتوں کو ایک مثالی اخلاقی و تربیتی رہنما قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان قرآنی تعلیمات میں عقیدے کی درستی، کردار سازی، خاندانی ذمہ داریوں اور معاشرتی اصلاح کے بنیادی اصول موجود ہیں، جن پر عمل پیرا ہو کر ایک بہتر فرد اور صالح معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

توحید کی اہمیت بیان کرتے ہوئے آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان اسلامی عقیدے کی بنیاد ہے اور انسانی زندگی کا ہر پہلو اسی اصول کے تابع ہونا چاہیے۔ انہوں نے والدین کے حقوق اور ان کے ساتھ حسن سلوک پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ والدین کے احسانات کا اعتراف، ان کا احترام اور ان کی جائز ضروریات کا خیال رکھنا بھی انسان کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عقیدے کے معاملات میں اختلاف کے باوجود والدین کے ساتھ عزت و احترام اور حسن سلوک کا رویہ برقرار رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی عمل، خواہ کتنا ہی معمولی یا پوشیدہ کیوں نہ ہو، مخفی نہیں رہ سکتا۔ اس احساس جواب دہی کو انسانی کردار کی اصلاح کے لیے بنیادی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہی شعور انسان کو اپنے اعمال، نیتوں اور ذمہ داریوں کے بارے میں محتاط رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔

حضرت لقمانؑ کی نصیحتوں کے عملی پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے نماز قائم کرنے، نیکی کی دعوت دینے، برائی سے روکنے اور مصائب و مشکلات میں صبر و استقامت اختیار کرنے کو ایک صالح زندگی کے بنیادی تقاضے قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے مضبوط ایمان، اخلاقی جرأت، عزم اور ثابت قدمی ضروری ہے، بالخصوص اس وقت جب حق و صداقت کے راستے میں مشکلات اور مخالفتوں کا سامنا ہو۔

خطبے کے اختتام پر آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے والدین، علمائے دین اور معاشرے کے ذمہ دار افراد پر زور دیا کہ وہ نوجوان نسل کی دینی و اخلاقی تربیت، مثبت رہنمائی اور عملی کردار سازی پر خصوصی توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مضبوط عقیدہ، اعلیٰ اخلاق، فکری پختگی اور خدمت خلق کے جذبے سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ وہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جوانی کی حقیقی قدر محض جسمانی قوت یا دنیاوی کامیابیوں میں نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت، اخلاقی اصولوں کی پاسداری اور خاندان، معاشرے اور پوری انسانیت کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں صرف کرنے میں مضمر ہے۔










آپ کا تبصرہ